فضائی آلودگی دماغی صحت اور یادداشت کے لیے خطرناک قرار، نئی تحقیق میں انکشاف
فضائی آلودگی دماغی صحت اور یادداشت کے لیے خطرناک قرار، نئی تحقیق میں انکشاف
اسلام آباد(کیپٹل ٹائمز نیوز ڈیسک)ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جنگلاتی آگ، فوسل فیول سے چلنے والے پاور پلانٹس، مصنوعی ذہانت (AI) کے ڈیٹا سینٹرز اور زیادہ ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی نہ صرف ماحول بلکہ انسانی دماغی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔
تحقیق کے مطابق UC Davis Health اور Kaiser Permanente کے محققین نے پایا کہ جن افراد نے تقریباً 20 سال تک باریک فضائی آلودگی کا زیادہ سامنا کیا، ان کی یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
مطالعے میں شرکاء سے حقائق، الفاظ اور عمومی معلومات یاد رکھنے سے متعلق ٹیسٹ لیے گئے، جن کے نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ آلودہ ماحول میں رہنے والے افراد کی کارکردگی نسبتاً صاف فضا میں رہنے والوں کے مقابلے میں کمزور رہی۔
محققین کے مطابق یہ اثرات تقریباً 10 سال کی قدرتی عمر رسیدگی کے برابر ہو سکتے ہیں اور خاص طور پر “سیمینٹک میموری” کو متاثر کرتے ہیں، جو انسان کی روزمرہ معلومات، الفاظ اور معنی یاد رکھنے کی صلاحیت سے متعلق ہوتی ہے۔
