آئی ایم ایف اور وفاقی حکومت کے درمیان بجٹ 2026-27 مذاکرات شروع، 230 ارب تک نئے ٹیکس متوقع

0
آئی ایم ایف کا الیکٹرک گاڑیوں پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگانے کا مطالبہ، حکومت کی ایک فیصد ٹیکس کی تجویز

آئی ایم ایف کا الیکٹرک گاڑیوں پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگانے کا مطالبہ، حکومت کی ایک فیصد ٹیکس کی تجویز

اسلام آباد(کیپٹل ٹائمز نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ سے متعلق مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے، جبکہ بجٹ تیاری کی ذمہ داری نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے سپرد کردی گئی ہے۔

وزیراعظم کی ہدایت پر اسحاق ڈار کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس میں محمد اورنگزیب، احسن اقبال، احد چیمہ اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔

کمیٹی ٹیکس پالیسی آفس کی تجاویز کا جائزہ لے کر قابلِ عمل سفارشات مرتب کرے گی، جبکہ انفورسمنٹ اقدامات کے لیے الگ کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے جس کی سربراہی احد چیمہ کریں گے۔

اپنی پہلی میٹنگ میں کمیٹی نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہدایت دی کہ ٹیکس چوری، انڈررپورٹنگ اور جعلی ٹیکس گوشواروں کی روک تھام کے لیے جدید ڈیجیٹل اور اے آئی نظام متعارف کرائے جائیں۔

حکومت آئندہ مالی سال میں تقریباً 15.3 کھرب روپے ٹیکس ہدف حاصل کرنا چاہتی ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں 215 سے 230 ارب روپے تک کے نئے ٹیکس عائد کیے جانے اور بعض شعبوں کو ریلیف دینے پر غور جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف معاہدے کے تحت حکومت کو مجموعی طور پر 430 ارب روپے کے مالیاتی اقدامات کرنا ہوں گے، جن میں 215 ارب روپے نئے ٹیکسوں جبکہ مزید 215 ارب روپے انفورسمنٹ اور ٹیکس وصولی بہتر بنانے سے حاصل کیے جائیں گے۔

ادھر جائزہ مشن کی سربراہ ایوا پیٹرووا نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور معاشی ٹیم سے ملاقات کی، جس میں گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر بھی شریک تھے۔ ملاقات میں بجٹ تیاری، معاشی صورتحال، اصلاحات، توانائی شعبے کی بہتری اور نجکاری پروگرام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے