امریکا اور ایران میں کشیدگی برقرار، امن مذاکرات کے باوجود نئی جنگ کے خدشات بڑھ گئے

0
امریکا اور ایران امن معاہدے کے قریب یا نئی جنگ کے دہانے پر؟

امریکا اور ایران امن معاہدے کے قریب یا نئی جنگ کے دہانے پر؟

اسلام آباد(کیپٹل ٹائمز نیوز ڈیسک)امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور جاری سفارتی رابطوں کے باوجود خطے میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک جانب دونوں ممالک امن مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی بات کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب دھمکیوں، میزائل حملوں اور فوجی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس سے نئی جنگ کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے خطے میں موجود اپنے فوجی اڈوں کو ایران کے خلاف استعمال کیا تو انہیں جائز فوجی اہداف سمجھا جائے گا۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے کہا ہے کہ ایران پر عائد پابندیاں اسی وقت ختم ہوں گی جب وہ اپنا جوہری پروگرام ترک کرے گا۔

امریکی صدر Donald Trump نے عندیہ دیا ہے کہ دونوں ممالک کسی ممکنہ معاہدے کے قریب ہیں، تاہم امریکی نائب صدر JD Vance نے واضح کیا ہے کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

رپورٹس کے مطابق خطے میں متعدد حملے اور جوابی کارروائیاں سامنے آئی ہیں۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ بیشتر میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیے گئے۔ بحرین میں امریکی تنصیبات اور دیگر مقامات پر بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، تاہم امریکی حکام نے جانی و مالی نقصان کی تردید کی ہے۔

ادھر ایران اور پاکستان کے درمیان سفارتی رابطوں میں بھی تیزی آئی ہے۔ Shanghai Cooperation Organisation کے اجلاس کے موقع پر دونوں ممالک کے وزرائے داخلہ نے خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ پس پردہ مذاکرات اور جنگ بندی میں توسیع کی خبریں موجود ہیں، لیکن میدانِ عمل میں جاری حملے اور سخت بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطہ اب بھی انتہائی نازک صورتحال سے دوچار ہے، جہاں امن معاہدے اور نئی جنگ دونوں امکانات بیک وقت موجود ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے