کیا بلڈ پریشر کی دوا ساری زندگی کھانی پڑتی ہے؟ ماہرین نے اہم حقیقت بتا دی
کیا بلڈ پریشر کی دوا ساری زندگی کھانی پڑتی ہے؟ ماہرین نے اہم حقیقت بتا دی
اسلام آباد(کیپٹل ٹائمز نیوز ڈیسک)Hypertension ایک خاموش مگر خطرناک بیماری ہے جو وقت کے ساتھ دل، دماغ اور گردوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اسی لیے اکثر مریض یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا بلڈ پریشر کی دوائیں پوری زندگی استعمال کرنا ضروری ہیں یا کسی مرحلے پر انہیں ترک بھی کیا جا سکتا ہے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق اس سوال کا جواب ہر مریض کے لیے مختلف ہو سکتا ہے۔ یہ بیماری کی شدت، مریض کی مجموعی صحت اور طرزِ زندگی پر منحصر ہوتا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بڑھتی عمر، موروثی عوامل، موٹاپا، غیر متوازن غذا، ذہنی دباؤ اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی ہائی بلڈ پریشر کی اہم وجوہات ہیں۔
ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر کی ادویات نہ صرف فشارِ خون کو قابو میں رکھتی ہیں بلکہ دل کے دورے، فالج اور گردوں کی خرابی جیسے سنگین خطرات سے بھی تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ تاہم اگر بیماری ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو جائے اور مریض صحت مند طرزِ زندگی اپنائے تو بعض صورتوں میں ادویات کی مقدار کم یا بند بھی کی جا سکتی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن میں کمی، باقاعدہ ورزش، نمک کا کم استعمال، ذہنی دباؤ پر قابو اور تمباکو نوشی سے پرہیز بلڈ پریشر کو بہتر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں معالج مریض کی مسلسل نگرانی کے بعد دوا میں تبدیلی کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
ماہرین ایک عام غلط فہمی کی نشاندہی کرتے ہوئے خبردار کرتے ہیں کہ صرف چند نارمل ریڈنگز آنے پر خود سے دوا بند کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ اکثر بلڈ پریشر اس لیے نارمل رہتا ہے کیونکہ دوا مؤثر طریقے سے اپنا کام کر رہی ہوتی ہے، اور دوا ترک کرتے ہی بیماری دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق بلڈ پریشر کی دوا اچانک بند کرنے سے بعض اوقات "ری باؤنڈ ہائپر ٹینشن” کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، جس میں بلڈ پریشر یکدم خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں فالج، دماغی شریان پھٹنے یا دل کے دورے جیسے جان لیوا مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ مریضوں کو اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ بیماری کو مؤثر انداز میں قابو میں رکھا جائے۔ دوا میں کسی بھی قسم کی کمی بیشی یا بندش صرف معالج کے مشورے سے ہی کرنی چاہیے تاکہ صحت کو لاحق خطرات سے محفوظ رہا جا سکے۔
