سعودی عرب کا نیوم منصوبہ محدود کرنے کا فیصلہ، منصوبے ختم کرنے پر بھی 16 ارب ڈالر خرچ ہوں گے

0
سعودی عرب کا نیوم منصوبہ محدود کرنے کا فیصلہ، منصوبے ختم کرنے پر بھی 16 ارب ڈالر خرچ ہوں گے

سعودی عرب کا نیوم منصوبہ محدود کرنے کا فیصلہ، منصوبے ختم کرنے پر بھی 16 ارب ڈالر خرچ ہوں گے

اسلام آباد(کیپٹل ٹائمز نیوز ڈیسک)سعودی عرب نے اپنے میگا منصوبے نیوم میں شامل بعض متنازع اور انتہائی مہنگے منصوبوں کو محدود یا ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن سے نکلنے اور متعلقہ معاہدے ختم کرنے کے لیے آئندہ پانچ سال کے دوران تقریباً 60 ارب سعودی ریال، یعنی 16 ارب ڈالر خرچ کیے جانے کا امکان ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض منصوبوں کے ٹھیکیداروں کے ساتھ معاہدے ختم کرنے کے لیے جرمانوں اور دیگر ادائیگیوں کی مد میں ہی اربوں ڈالر خرچ ہوں گے۔ نیوم میں پہاڑوں پر برفانی تفریحی مقام، بحیرۂ احمر کے ساحلی مراکز اور صنعتی زون سمیت کئی بڑے منصوبے شامل تھے، جن کا بنیادی مقصد سعودی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر سیاحت، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں کی طرف منتقل کرنا تھا۔

نیوم کا سب سے نمایاں منصوبہ ’دی لائن‘ تھا، جسے 170 کلومیٹر طویل اور تقریباً 2 کلومیٹر چوڑے خطی شہر کے طور پر تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر اس منصوبے کی لاگت تقریباً 500 ارب ڈالر بتائی گئی تھی، تاہم شہری منصوبہ بندی کے ماہرین نے ابتدا ہی سے اس کے حجم، لاگت اور عملی مشکلات پر سوالات اٹھائے تھے۔

رپورٹس کے مطابق سعودی عرب اب تک نیوم پر 50 ارب ڈالر سے زائد خرچ کر چکا ہے، جبکہ بعض اندازوں میں مجموعی اخراجات 64 ارب ڈالر تک بتائے گئے ہیں۔ بڑھتی ہوئی لاگت اور تعمیراتی تاخیر کے باعث منصوبے کے کئی حصوں کو محدود، معطل یا ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

نیوم کے نئے سربراہ ایمن المدیفر نے ذمہ داری سنبھالنے کے بعد منصوبے کی ترجیحات کا جامع جائزہ شروع کیا، جس کے نتیجے میں ملازمتوں میں کمی، انتظامی تنظیمِ نو اور مختلف منصوبوں پر نظرثانی کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق 2025ء میں تعمیراتی عملے میں نمایاں کمی کے ساتھ ایک ہزار سے زائد ملازمین کو ریاض منتقل بھی کیا گیا۔

نیوم کے سابق سربراہ نذمی النصر نے نومبر 2024ء میں اچانک عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ بعد ازاں ’دی لائن‘ سمیت بڑے منصوبوں کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھتے رہے۔

سعودی عرب اب نیوم کے مستقبل میں مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سینٹرز اور ٹیکنالوجی کو زیادہ اہمیت دے رہا ہے۔ فروری 2026ء میں ڈیٹا وولٹ کے ساتھ 5 ارب ڈالر کی شراکت داری کا اعلان کیا گیا، جس کے تحت نیوم کے اوکساغون علاقے میں مصنوعی ذہانت کے لیے ایک بڑا ڈیٹا سینٹر تعمیر کیا جائے گا۔

نیوم کا اب تک باقاعدہ طور پر کھولا جانے والا واحد منصوبہ سندالہ کا لگژری کشتی رانی مرکز ہے، جس کا افتتاح اکتوبر 2024ء میں کیا گیا تھا۔ یہ منصوبہ بھی مقررہ وقت سے تقریباً تین سال تاخیر کا شکار ہوا اور اس کی لاگت ابتدائی اندازے سے کئی گنا بڑھ گئی۔

ماہرین کے مطابق نیوم کے بڑے حصے کا محدود یا منسوخ ہونا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے لیے ایک اہم چیلنج ہے، کیونکہ نیوم کو سعودی عرب کی معاشی تبدیلی، سیاحت، ٹیکنالوجی اور تیل سے ہٹ کر آمدنی کے ذرائع پیدا کرنے کی حکمت عملی کا مرکزی منصوبہ قرار دیا گیا تھا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے