ٹرمپ کا ایران کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا اشارہ، آئندہ ہفتے فیصلہ کن قرار
ٹرمپ کا ایران کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا اشارہ، آئندہ ہفتے فیصلہ کن قرار
Donald Trump نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں آئندہ چند ہفتوں کو فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے فوجی کارروائیوں میں ممکنہ تیزی کا عندیہ دیا ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران امریکی افواج نے ایران کے اہم عسکری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا اور متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن اپنے اہم مراحل مکمل کر چکا ہے اور اب اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، جبکہ مکمل اہداف کے حصول تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ٹرمپ نے ایران کی توانائی تنصیبات کو بھی ممکنہ ہدف قرار دیا۔
امریکی صدر نے ایرانی حکومت پر عوامی مظاہروں کو طاقت سے دبانے کے الزامات عائد کیے، تاہم ان دعوؤں کے لیے کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک—Saudi Arabia، Qatar، United Arab Emirates، Kuwait اور Bahrain—کے تحفظ کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
توانائی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ اب خود کفیل ہو چکا ہے اور مشرق وسطیٰ کے تیل پر انحصار کم ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل منڈی میں اتار چڑھاؤ آیا، تاہم صورتحال جلد معمول پر آ سکتی ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ تنازع اختتامی مراحل میں داخل ہو رہا ہے اور کشیدگی میں کمی کے ساتھ اہم بحری گزرگاہ Strait of Hormuz دوبارہ معمول کے مطابق فعال ہو جائے گی۔
