خربوزہ: گرمی میں توانائی، پانی اور صحت کا بہترین ذریعہ
خربوزہ: گرمی میں توانائی، پانی اور صحت کا بہترین ذریعہ
شیریں اور فرحت بخش پھل خربوزہ مٹھاس سے بھرپور ہونے کے ساتھ صحت کے بے شمار فوائد بھی فراہم کرتا ہے۔ غذائی ماہرین کے مطابق گرم موسم میں خربوزہ باقاعدگی سے کھانے سے گرمی کی شدت سے بچاؤ اور پانی کی کمی دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔
خربوزے کی 100 گرام مقدار میں 32 کیلوریز، فیٹ صفر فیصد، کولیسٹرول 0 فیصد، سوڈیم 16 ملی گرام، کاربوہائیڈریٹس 8 گرام، فائبر 3 فیصد، پروٹین 1 فیصد، وٹامن اے 67 فیصد، وٹامن سی 61 فیصد، وٹامن بی 6 5 فیصد، میگنیشیم 3 فیصد اور پانی 95.2 گرام پایا جاتا ہے۔
اگر خربوزہ پھیکا نکل آئے تو اسے چینی کے ساتھ کھانے کی بجائے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر بلینڈر میں ڈالیں، 2-3 کجھور اور دھنیا شامل کر کے جوس بنا کر مزے سے پیا جا سکتا ہے۔
خربوزہ پیاس کم کرنے، سینے کی جلن دور کرنے اور گردوں کی صفائی میں بھی مددگار ہے۔ یہ ڈائٹنگ کرنے والوں کے لیے بہترین اسنیک بھی ہے، کیونکہ رسیلا اور میٹھا ذائقہ ہائی کیلوریز والے اسنیکس اور ڈیزرٹس کا متبادل فراہم کرتا ہے۔
مزید برآں، وٹامن اے کی موجودگی کے باعث خربوزہ بالوں کی نشوونما کے لیے بھی فائدہ مند ہے، کیونکہ یہ صحت مند بالوں کے لیے سیبم کی پیداوار بڑھاتا ہے اور نمی برقرار رکھتا ہے۔
گرمی کے موسم میں خربوزے کا استعمال جسم کو غذائیت اور پانی فراہم کر کے ہیٹ ویو کے مضر اثرات سے بچاتا ہے اور توانائی بحال رکھتا ہے۔
