آبنائے ہرمز میں ٹرمپ کا عسکری محاصرہ، کون کون سے جہاز تعینات کر دیے؟
: امریکہ ایران کشیدگی میں اضافہ، بحری محاصرے اور تصادم کی دھمکیوں سے خطے میں تناؤ بڑھ گیا
تفصیل:
امریکی صدر Donald Trump نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی تیز رفتار حملہ آور کشتیاں امریکی بحری محاصرے کے قریب آئیں تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران کی بحری صلاحیت کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے اور متعدد کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کے گرد مبینہ بحری ناکہ بندی کے لیے 15 سے زائد جنگی جہاز تعینات کیے ہیں۔ اس کارروائی میں USS Tripoli (LHA-7) بھی شامل ہے جو بحیرۂ عرب میں ایف-35 بی اسٹیلتھ طیاروں اور دیگر ہیلی کاپٹروں کے ساتھ آپریشنز انجام دے رہا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (United States Central Command (CENTCOM)) کے مطابق یہ اقدامات غیر جانب دارانہ انداز میں ان تمام جہازوں پر نافذ کیے جا رہے ہیں جو ایرانی ساحلی حدود میں داخل یا خارج ہوتے ہیں، جبکہ غیر متعلقہ بین الاقوامی جہازوں کی آمدورفت متاثر نہیں ہوگی۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری اور تفصیلی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم خطے میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے اردگرد صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
پس منظر:
Strait of Hormuz دنیا کے اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی عالمی توانائی اور تجارت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
