تحقیق: نمکین پانی پینے سے بلڈ پریشر، دل کی بیماری اور فالج کے خطرات میں اضافہ

0
تحقیق: نمکین پانی پینے سے بلڈ پریشر، دل کی بیماری اور فالج کے خطرات میں اضافہ

تحقیق: نمکین پانی پینے سے بلڈ پریشر، دل کی بیماری اور فالج کے خطرات میں اضافہ

اسلام آباد(کیپٹل ٹائمز نیوز ڈیسک)ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ پینے کے پانی میں سمندر کے پانی کی آمیزش (نمکیات کی زیادتی) انسانوں میں بلڈ پریشر بڑھانے کا سبب بن سکتی ہے اور اس سے قلبی امراض اور فالج کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکہ کی Florida International University کے سائنس دانوں نے کی، جنہوں نے دنیا بھر میں 74 ہزار سے زائد افراد پر کیے گئے مختلف مطالعات کا تجزیہ کیا۔

نتائج کے مطابق وہ افراد جو ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں پینے کے پانی میں نمک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، ان میں بلند فشار خون کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ پایا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال خاص طور پر ساحلی علاقوں میں زیادہ دیکھی گئی، جہاں زیرِ زمین پانی یا پینے کے ذرائع میں سمندر کے پانی کی آمیزش ہو سکتی ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ زیادہ نمکین پانی کا استعمال صحت پر ایسے ہی منفی اثرات ڈال سکتا ہے جیسے جسمانی طور پر غیر فعال رہنا، اور یہ براہِ راست Hypertension، Cardiovascular disease اور Stroke جیسے خطرناک امراض کے امکانات میں اضافہ کر سکتا ہے۔

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ پینے کے پانی کے معیار کو بہتر بنانا دل اور دماغی صحت کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں زیرِ زمین پانی میں نمکیات کی سطح بلند ہو سکتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے