امریکی حکومت کا اہم فیصلہ: جونز ایکٹ میں 90 دن کی توسیع، ایندھن کی قیمتیں قابو میں رکھنے کی کوشش
امریکی حکومت کا اہم فیصلہ: جونز ایکٹ میں 90 دن کی توسیع، ایندھن کی قیمتیں قابو میں رکھنے کی کوشش
امریکی حکومت نے Jones Act کے تحت دی گئی خصوصی چھوٹ کو مزید 90 دن کے لیے بڑھا دیا ہے، جس کا مقصد ملک میں تیل، ایندھن اور کھاد کی ترسیل کو بہتر بنا کر بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ فیصلہ توانائی کی مہنگائی کم کرنے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر کشیدگی اور توانائی بحران قیمتوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ حکومتی حکام کے مطابق یہ اقدام ایران سے جڑی کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والی سپلائی چین مشکلات کو کم کرنے کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے، اور یہ سب نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل سیاسی و معاشی دباؤ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
Al Jazeera کی رپورٹ کے مطابق Jones Act 1920 میں نافذ کیا گیا تھا، جس کے تحت امریکی بندرگاہوں کے درمیان سامان کی ترسیل صرف امریکی ساختہ اور امریکی عملے والے جہازوں کے ذریعے ممکن ہے۔ اس قانون کا مقصد مقامی بحری صنعت کو تحفظ دینا تھا، لیکن ناقدین کے مطابق یہ نظام ترسیل کو مہنگا اور سست بنا دیتا ہے۔
ماہرین اور انڈسٹری سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس عارضی چھوٹ کے باوجود ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان محدود ہے۔ اندازوں کے مطابق مشرقی ساحل پر پیٹرول کی قیمت میں صرف چند سینٹس کی کمی متوقع ہے، جبکہ بعض علاقوں میں اثر الٹا بھی ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف اس فیصلے پر تنقید بھی سامنے آ رہی ہے کہ اس سے مقامی شپنگ انڈسٹری اور مزدور متاثر ہو سکتے ہیں جبکہ بڑی آئل کمپنیاں زیادہ فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ عوامی سروے میں بڑی تعداد میں ووٹرز نے بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کا ذمہ دار موجودہ انتظامیہ کو قرار دیا ہے، اور تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی کشیدگی کے خاتمے کے باوجود توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔
