اینٹی ایجنگ جین تھراپی کا پہلا انسانی تجربہ: سیلولر ری پروگرامنگ کے ذریعے بڑھاپے کے اثرات کم کرنے کی نئی کوشش
اینٹی ایجنگ جین تھراپی کا پہلا انسانی تجربہ: سیلولر ری پروگرامنگ کے ذریعے بڑھاپے کے اثرات کم کرنے کی نئی کوشش
سائنس کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پہلی بار انسانوں پر اینٹی ایجنگ جین تھراپی کا کلینیکل ٹرائل شروع کر دیا گیا ہے۔
امریکی شہر بوسٹن میں قائم بائیوٹیک کمپنی Life Biosciences نے 9 جون کو اعلان کیا کہ اس کے پہلے انسانی کلینیکل ٹرائل میں ایک رضاکار کو تجرباتی جین تھراپی دی جا چکی ہے۔ یہ تھراپی خلیاتی سطح پر بڑھاپے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے اور اس میں جدید سیلولر ری پروگرامنگ ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔
اس طریقہ کار میں کوشش کی جاتی ہے کہ عمر رسیدہ خلیات کو جزوی طور پر دوبارہ “جوان” حالت میں واپس لایا جائے تاکہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنا سکیں۔ ابتدائی مرحلے میں یہ علاج خاص طور پر آنکھوں کی بیماریوں جیسے گلوکوما اور دیگر بصری مسائل کے لیے آزمایا جا رہا ہے، جہاں خراب ہو چکے خلیات کو دوبارہ فعال بنانے کی صلاحیت پر تحقیق کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس تھراپی میں یاماناکا فیکٹرز کے ذریعے خلیات کے ایپی جینیٹک نظام کو جزوی طور پر ری سیٹ کیا جاتا ہے، جس سے خلیات اپنی جوان حالت کی طرف واپس جا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اس عمل کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک کنٹرول سسٹم بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔
یہ تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کا بنیادی مقصد اس کی حفاظت اور ابتدائی اثرات کو جانچنا ہے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ثابت ہوتا ہے تو مستقبل میں بڑھاپے سے متعلق بیماریوں کے علاج میں بڑی پیش رفت اور انسان کی صحت مند عمر میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔
