جوڑوں کے درد کی معروف دوا الزائمر کے خطرات بڑھا سکتی ہے، نئی تحقیق
جوڑوں کے درد کی معروف دوا الزائمر کے خطرات بڑھا سکتی ہے، نئی تحقیق
ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جوڑوں کے درد کے لیے استعمال ہونے والا معروف غذائی جزو گلوکوزامین ممکنہ طور پر الزائمر اور یادداشت کی بیماریوں کی رفتار تیز کر سکتا ہے۔
امریکا کی فلوریڈا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ایسے افراد جن میں یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں ابتدائی کمزوری کے آثار موجود تھے، اگر وہ گلوکوزامین استعمال کر رہے تھے تو ان میں ذہنی تنزلی کی بیماری میں مبتلا ہونے کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ پایا گیا۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جو مریض پہلے ہی الزائمر یا اس سے ملتی جلتی دماغی بیماریوں کا شکار تھے، ان میں گلوکوزامین کے استعمال کا تعلق موت کے خطرے میں 25 فیصد اضافے سے دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق الزائمر صرف دماغ میں مخصوص پروٹینز کے جمع ہونے کا نتیجہ نہیں بلکہ جسمانی سوزش اور میٹابولزم کی خرابی بھی اس بیماری میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ گلوکوزامین دماغ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث یہ دماغی خلیات میں ہونے والے حیاتیاتی عمل کو متاثر کر سکتا ہے اور بعض افراد میں بیماری کی پیش رفت کو تیز کر سکتا ہے۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، تاہم الزائمر یا یادداشت کی کمزوری کے شکار افراد کو کسی بھی دوا یا غذائی جزو کے استعمال سے قبل اپنے معالج سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔
