ہائی کولیسٹرول: خاموش قاتل جو دل اور دماغ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے
ہائی کولیسٹرول: خاموش خطرہ جو دل کو متاثر کرسکتا ہے، بچاؤ کیسے ممکن؟
ہائی کولیسٹرول کو ماہرینِ صحت ایک ایسا خاموش مگر خطرناک مسئلہ قرار دیتے ہیں جو بغیر واضح علامات کے برسوں تک جسم میں بڑھتا رہتا ہے اور بعد ازاں دل، دماغ اور دیگر اعضاء کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کولیسٹرول ایک چکنائی نما مادہ ہے جو جسم میں قدرتی طور پر بھی بنتا ہے اور خوراک کے ذریعے بھی حاصل ہوتا ہے۔ یہ ہارمونز کی تیاری، خلیات کی ساخت اور وٹامن ڈی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، تاہم اس کی زیادتی خطرناک ہو سکتی ہے۔
کولیسٹرول کی دو بنیادی اقسام ہوتی ہیں:
- اچھا کولیسٹرول (HDL) جو جسم سے اضافی چکنائی خارج کرنے میں مدد دیتا ہے
- برا کولیسٹرول (LDL) جو شریانوں میں جمع ہو کر انہیں تنگ اور سخت کر دیتا ہے، جسے ایتھروسکلروسیس کہا جاتا ہے
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ہائی کولیسٹرول کو ’’خاموش قاتل‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ فوری علامات ظاہر نہیں کرتا۔ تاہم وقت کے ساتھ یہ سینے میں درد، سانس کی قلت، دل کا دورہ اور فالج جیسے خطرناک مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپے یا سگریٹ نوشی کے شکار افراد کو باقاعدگی سے لپڈ پروفائل ٹیسٹ کروانا چاہیے—کچھ افراد کے لیے ہر 6 ماہ جبکہ دیگر کے لیے سال میں کم از کم ایک بار۔
ماہرین کے مطابق اس بیماری سے بچاؤ کے لیے طرزِ زندگی میں سادہ تبدیلیاں مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں:
- چکنائی اور سرخ گوشت کا کم استعمال
- فائبر سے بھرپور غذائیں جیسے جئی، دالیں اور پھل
- انڈے کی زردی کا محدود استعمال
- روزانہ کم از کم 30 منٹ تیز چہل قدمی
- ہفتے میں 150 منٹ ورزش
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ بیماری خاموشی سے بڑھتی ہے، اس لیے باقاعدہ ٹیسٹ اور صحت مند طرزِ زندگی ہی اس سے بچاؤ کا بہترین طریقہ ہیں۔
