آنتوں کے بیکٹیریا سے میلانوما کے دوبارہ ہونے کے خطرے کی پیشگوئی ممکن: نئی تحقیق

0
آنتوں کے بیکٹیریا سے میلانوما کے دوبارہ ہونے کے خطرے کی پیشگوئی ممکن: نئی تحقیق

آنتوں کے بیکٹیریا سے میلانوما کے دوبارہ ہونے کے خطرے کی پیشگوئی ممکن: نئی تحقیق

اسلام آباد(کیپٹل ٹائمز نیوز ڈیسک)ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ انسانی آنتوں میں موجود بیکٹیریا جلد کے کینسر کی ایک قسم میلانوما کے علاج کے بعد بیماری کے دوبارہ ظاہر ہونے کے خطرے کا اندازہ لگانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

یہ تحقیق نیو یارک یونیورسٹی لینگون ہیلتھ اور اس کے پرلمٹر کینسر سینٹر کے محققین نے کی، جس کے نتائج معروف سائنسی جریدے سیل میں شائع ہوئے۔

بیان کے مطابق ماضی کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ میلانوما کے 25 سے 40 فیصد مریضوں میں سرجری اور امیونوتھراپی کے بعد بیماری دوبارہ لوٹ آتی ہے۔ میلانوما جلد کے کینسر کی ایک قسم ہے جو عموماً سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں کی زیادہ نمائش سے منسلک ہوتی ہے، اور اس کا علاج سرجری یا امیونوتھراپی کے ذریعے کیا جاتا ہے جو مدافعتی نظام کو کینسر کے خلیات کے خلاف متحرک کرتی ہے۔

نئی تحقیق میں عالمی کلینیکل ٹرائل کے 674 میلانوما مریضوں کے اسٹول (فضلات) کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ آنتوں کے بیکٹیریا کی ساخت مستقبل میں بیماری کے دوبارہ ظاہر ہونے کے خطرے کی پیشگوئی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

محققین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں ذاتی نوعیت کے علاج (personalized treatment) اور بہتر نگرانی کے طریقۂ کار کی راہ ہموار کر سکتی ہے، تاکہ مریضوں میں بیماری کے دوبارہ ہونے کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے