ٹائپ 1 ذیابیطس کے علاج میں بڑی پیش رفت: زیلڈ دوا کو بچوں کے لیے ایف ڈی اے کی منظوری
ٹائپ 1 ذیابیطس کے علاج میں بڑی پیش رفت: زیلڈ دوا کو بچوں کے لیے ایف ڈی اے کی منظوری
اسلام آباد(کیپٹل ٹائمز نیوز ڈیسک)ادویہ ساز کمپنی Sanofi کی تیار کردہ دوا Tzield کو امریکی ریگولیٹر Food and Drug Administration نے بچوں میں ٹائپ 1 ذیابیطس کے علاج کے لیے باضابطہ منظوری دے دی ہے، جسے طبی دنیا میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ دوا خاص طور پر اسٹیج 2 اور ابتدائی اسٹیج 3 ٹائپ 1 ذیابیطس کے مریض بچوں کے لیے استعمال ہو سکے گی، تاکہ بیماری کے بڑھنے کی رفتار کو سست کیا جا سکے یا اس کے آغاز میں تاخیر لائی جا سکے۔ ایف ڈی اے اس بات کا بھی جائزہ لے رہا ہے کہ اسے 8 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کے لیے مزید وسیع پیمانے پر استعمال کی اجازت دی جائے۔
کمپنی کو حال ہی میں اضافی بایولوجکس لائسنس کی منظوری بھی ملی ہے، جس کے تحت Tzield کو اسٹیج 3 ٹائپ 1 ذیابیطس کے ابتدائی مراحل میں بیماری کی پیش رفت روکنے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔
یہ فیصلہ PETITE-T1D فیز IV کلینیکل ٹرائل کے ایک سالہ ڈیٹا کی بنیاد پر کیا گیا، جس میں کم عمر بچوں میں دوا کی حفاظت اور اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ پہلی منظور شدہ تھراپی ہے جو ٹائپ 1 ذیابیطس کے پیچھے کارفرما آٹو امیون عمل کو براہِ راست نشانہ بناتی ہے۔
یہ دوا پہلے ہی کئی ممالک میں منظور شدہ ہے، جن میں کینیڈا، چین، یورپی یونین، برطانیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر شامل ہیں۔ اس سے قبل اسے ایف ڈی اے کی جانب سے “بریک تھرو تھراپی” اور “اورفن ڈرگ” کے درجے بھی دیے جا چکے ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق یہ پیش رفت ذیابیطس کے علاج میں ایک نئے دور کی شروعات ہو سکتی ہے، جو مریض بچوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے امید کی نئی کرن ہے۔
