آبنائے ہرمز کا محاصرہ: ایران کب تک مقابلہ، امریکا کتنی دیر تک دباؤ برقرار رکھ سکے گا؟

0
امریکی بحری محاصرہ: ٹرمپ کے دعوے، ایران کی مزاحمت اور عالمی دباؤ میں اضافہ

امریکی بحری محاصرہ: ٹرمپ کے دعوے، ایران کی مزاحمت اور عالمی دباؤ میں اضافہ

اسلام آباد(کیپٹل ٹائمز نیوز ڈیسک)امریکی صدر Donald Trump نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحری محاصرے کے باعث ایران کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے اور اسے روزانہ کروڑوں ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے، جس سے وہ تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا ہے، جس کے جواب میں ایران نے Strait of Hormuz کو غیر ملکی جہازوں کے لیے بند کر دیا اور بعض جہاز اپنی تحویل میں لے لیے ہیں۔

قطری نشریاتی ادارے Al Jazeera کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ ایران کو معاشی نقصان کا سامنا ہے، تاہم وہ قلیل مدت کے لیے دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں تیل کی بڑھتی قیمتوں نے ایران کی آمدن میں اضافہ کیا ہے، جبکہ اس کے پاس سمندر میں موجود تیل کے ذخائر بھی ہیں جو چند ماہ تک مالی سہارا فراہم کر سکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے پاس 160 سے 180 ملین بیرل تیل سمندر میں موجود ہے، جس سے وہ کم از کم اگست تک آمدنی حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کر کے بھی ریونیو حاصل کر رہا ہے۔

دوسری جانب امریکا کو بھی مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں اندرونی سیاسی دباؤ، کانگریس کی منظوری اور عالمی ردِعمل شامل ہیں۔ خاص طور پر China کی ناراضی اور عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران طویل المدتی حکمت عملی کے تحت دباؤ برداشت کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جبکہ امریکی قیادت جلد نتائج حاصل کرنے کی خواہاں ہے۔ موجودہ صورتحال میں یہ کہنا مشکل ہے کہ کون فریق زیادہ دیر تک اپنے مؤقف پر قائم رہ سکے گا، تاہم اندازہ ہے کہ ایران چند ماہ تک معاشی طور پر خود کو سنبھال سکتا ہے جبکہ امریکا کے لیے طویل عرصے تک یہ محاصرہ برقرار رکھنا سیاسی اور سفارتی لحاظ سے مشکل ہو سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے