جرمن سائنسدانوں کی بڑی پیشرفت، اے آئی نظام دماغی رسولیوں کی تشخیص صرف 12 منٹ میں کرنے کے قابل
جرمن سائنسدانوں کی بڑی پیشرفت، اے آئی نظام دماغی رسولیوں کی تشخیص صرف 12 منٹ میں کرنے کے قابل
دما
اسلام آباد(کیپٹل ٹائمز نیوز ڈیسک)جرمنی کے محققین نے ایک جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) نظام تیار کیا ہے جو دماغی رسولیوں (برین ٹیومرز) کی تشخیص غیر معمولی رفتار اور درستگی کے ساتھ صرف 12 منٹ میں کر سکتا ہے، جبکہ روایتی طریقہ کار میں یہ عمل اوسطاً 12 دن تک لیتا ہے۔
جرمنی کے شہر ہائیڈلبرگ میں تیار کیے گئے اس نظام کو HETICEROS کا نام دیا گیا ہے، جو دماغی رسولیوں کی مالیکیولر خصوصیات اور خردبینی ساخت کا تجزیہ کرکے فوری تشخیص فراہم کرتا ہے۔
یہ منصوبہ German Cancer Research Center کے ماہرین نے تیار کیا ہے، جن کے مطابق یہ ٹیکنالوجی پیچیدہ اور مہنگے لیبارٹری ٹیسٹس کے متبادل کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے اور تشخیص کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور قابلِ رسائی بنا سکتی ہے۔
تحقیقی ٹیم کے رکن Moritz Gerstung نے کہا کہ اے آئی سے لیس ڈیجیٹل پیتھالوجی مستقبل میں طبی تشخیص کے شعبے میں انقلاب لا سکتی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف وقت بچاتی ہے بلکہ بڑے پیمانے پر درست اور فوری تشخیص کو ممکن بناتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت دنیا بھر میں دماغی کینسر کی تشخیص کے طریقہ کار میں ایک اہم تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر وہاں جہاں جدید لیبارٹری سہولیات محدود ہیں۔
