لبلبے کے کینسر کے لیے نئی دوا امید کی کرن، زندگی دوگنی ہونے کا دعویٰ
لبلبے کے کینسر کے لیے نئی دوا امید کی کرن، زندگی دوگنی ہونے کا دعویٰ
ایک کلینیکل آنکولوجی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا میں لبلبے کے آخری مرحلے کے کینسر کے علاج کے لیے ایک نئی دوا کی کامیاب آزمائش کی گئی ہے، جو روایتی کیموتھراپی کے مقابلے میں مریضوں کی زندگی تقریباً دوگنی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
تحقیق کے مطابق لبلبے کا کینسر کے مریض اگر روزانہ ایک بار لی جانے والی دوا ڈریکسونراسب استعمال کریں تو ان میں موت کا خطرہ صرف کیموتھراپی کروانے والوں کے مقابلے میں 60 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔
یہ نتائج 500 افراد پر مشتمل فیز تھری کلینیکل ٹرائل میں سامنے آئے، جس سے اس دوا کو ایک زیادہ مؤثر اور کم تکلیف دہ علاج قرار دیا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے ہارورڈ میڈیکل اسکول کے پروفیسر برائن وولپن کا کہنا ہے کہ یہ دوا اُن مریضوں کے لیے بھی امید کی نئی کرن ثابت ہو سکتی ہے جن میں کیموتھراپی کے باوجود کینسر پھیلتا رہتا ہے۔
