ناصر ادیب کا متنازع بیان، چرس کے بجائے دعا کو بہتر ذریعہ قرار دے دیا
ناصر ادیب کا متنازع بیان، چرس کے بجائے دعا کو بہتر ذریعہ قرار دے دیا
پاکستانی شوبز انڈسٹری کے سینئر مصنف ناصر ادیب نے حالیہ گفتگو میں تحریر کے عمل سے متعلق ایک متنازع پہلو پر کھل کر اظہار خیال کیا ہے۔
وہ ایک پوڈکاسٹ میں بطور مہمان شریک ہوئے جہاں انہوں نے ماضی کے لالی ووڈ اداکاروں اور فلمی صنعت سے جڑی کئی اہم باتیں شیئر کیں۔ گفتگو کے دوران ان سے سوال کیا گیا کہ کیا لکھاریوں میں چرس کے استعمال کی باتیں درست ہیں اور کیا یہ واقعی لکھنے میں مدد دیتی ہے۔
اس پر ناصر ادیب نے کہا کہ چرس بظاہر ذہن کو ایک نقطے پر مرکوز کرنے میں مدد دیتی ہے، جس سے لکھنے والے کو اپنے موضوع پر توجہ دینے میں آسانی محسوس کر سکتا ہے، اسی وجہ سے بعض لوگ اسے مؤثر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اسے "فقیری دھواں” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا استعمال صرف اسی وقت کیا جانا چاہیے جب ذہن مکمل طور پر بند ہو جائے۔
تاہم انہوں نے اس طریقے کے بجائے ایک بہتر متبادل بھی پیش کیا اور بتایا کہ وہ گزشتہ 60 برس سے لکھنے سے قبل دعا "ربی شرح لی صدری ویسر لی امری” پڑھتے ہیں، جو ان کے لیے ہمیشہ مددگار ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے دیگر لکھاریوں کو بھی اسی عمل کو اپنانے کا مشورہ دیا۔
