آبنائے ہُرمز کی بندش عالمی غذائی بحران کا سبب بن سکتی ہے، اقوام متحدہ کی وارننگ

0
آبنائے ہُرمز کی بندش عالمی غذائی بحران کا سبب بن سکتی ہے، اقوام متحدہ کی وارننگ

آبنائے ہُرمز کی بندش عالمی غذائی بحران کا سبب بن سکتی ہے، اقوام متحدہ کی وارننگ

اسلام آباد(کیپٹل ٹائمز نیوز ڈیسک)اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہُرمز کی ممکنہ بندش دنیا کو بڑے غذائی بحران سے دوچار کر سکتی ہے۔

فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے چیف اکانومسٹ میکسیمو ٹوریرو کے مطابق وقت تیزی سے گزر رہا ہے، اور پاکستان، بھارت، بنگلا دیش، سری لنکا، سوڈان، کینیا، برازیل اور تھائی لینڈ سمیت متعدد ممالک میں اگلی فصلوں کی بوائی کا وقت قریب آ چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہُرمز سے دنیا کا تقریباً 35 فیصد تیل، 20 فیصد قدرتی گیس اور 20 سے 30 فیصد کھاد کی عالمی ترسیل گزرتی ہے۔ اس اہم بحری گزرگاہ کی بندش سے سپلائی چین متاثر ہوگی، جس کے نتیجے میں کسانوں کو کھاد کی فراہمی میں مشکلات پیش آئیں گی اور زرعی پیداوار کم ہو سکتی ہے۔

میکسیمو ٹوریرو کے مطابق اگرچہ آبنائے ہُرمز چند دنوں میں دوبارہ کھل بھی جائے تو تیل، گیس اور کھاد کی ترسیل کو معمول پر آنے میں کم از کم تین ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ پہلے سے پیدا ہونے والے اثرات سے عالمی معیشت اور غذائی نظام کو بحال ہونے میں مزید وقت درکار ہوگا۔

اقوام متحدہ کے مطابق صورتحال اگر طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات دنیا بھر میں غذائی قلت اور مہنگائی کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے